اتوار، 30 ستمبر، 2018

نظم - حمد باری تعالیٰ

حمد باری تعالیٰ

ترا دیدار کرنا چاہتا ہوں
ہزاروں بار کرنا چاہتا ہوں

ترے افلاک کی ساری کی ساری
حدوں کو پار کرنا چاہتا ہوں

تری نسبت کا اب اقرار مَیں بھی
سرِ بازار کرنا چاہتا ہوں

ثنا تیری بہت، الفاظ تھوڑے
یہی تکرار کرنا چاہتا ہوں

(فہدؔ بن خالد)

ہفتہ، 29 ستمبر، 2018

غزل - بہار آئی خزاں مرجھا گئی ہے

غزل

بہار آئی، خزاں مرجھا گئی ہے
نئی خوشبو فضا مہکا گئی ہے

دیے امید کے جلنے لگے ہیں
چمک مہ تاب کی شرما گئی ہے

فہدؔ چلتے چلو بس رفتہ رفتہ
بہت نزدیک منزل آگئی ہے

فہدؔ بن خالد

غزل - مجھے تنہا ہی رہنے دو

غزل

مجھے محفل سے کیا لینا، مجھے تنہا ہی رہنے دو
میں تنہا ہوں، میں تنہا تھا، مجھے تنہا ہی رہنے دو

میں کہتا تھا مرا رستہ بہت دشوار ہے لیکن
مجھے اب ڈر نہیں لگتا، مجھے تنہا ہی رہنے دو

نظر آنے لگی ہیں دور سے خورشید کی کرنیں
اٹھا آنکھوں سے اب پردہ، مجھے تنہا ہی رہنے دو

اگرچہ ہر طرف ہے سرد وحشت ناک تاریکی
مرے ہمرہ ید بیضا، مجھے تنہا ہی رہنے دو

فہدؔ، سو بار ٹھوکر کھا کے گرنا، پھر سے اٹھ جانا
جہاں سے پھر بھی یہ کہنا، مجھے تنہا ہی رہنے دو

(فہدؔ بن خالد)

بدھ، 7 فروری، 2018

تین قوانین جن کی پابندی ہر روبوٹ پر لازم ہے

تحریر: فہد بن خالد

کچھ لمحوں کے لئے تصور کریں کہ ایک علاقے میں کوئی بھی قانون، ضابطہ اور اصول موجود نہیں۔ کیا وہاں کے باسی امن و سکون کی زندگی بسر کر سکیں گے؟ آپ کا جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔ کیونکہ معاملات کو احسن طریقے سے انجام دینے کے لئے اور حدوں سے باہر نکلنے سے بچانے کے لئے ہمیشہ کچھ اصولوں اور ضابطوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔


جی ہاں! آپ نے عنوان بالکل صحیح پڑھا۔ روبوٹکس میں بھی تین قوانین ایسے ہیں جن کی پابندی ہر روبوٹ پر لازم سمجھی جاتی ہے تاکہ انسانوں کی سیفٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سائنس فکشن لٹریچر میں تین مشہور قوانین موجود ہیں جو روبوٹکس فکشن کے ایک بڑے ادیب 'آئزک اسیموو' نے اپنی کہانی 'رَن اراؤنڈ' میں 1942ء میں مرتب کئے۔ وہ قوانین / اصول درج ذیل ہیں:

قانون 1: ایک روبوٹ کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور نہ ہی اپنی بے عملی کی وجہ سے نقصان پہنچنے دے گا۔

قانون 2: ایک روبوٹ، انسان کی طرف سے دی کئی ہدایات پر ضرور عمل کرے گا سوائے ان ہدایات کے جن پر عمل کرنا پہلے اصول کے خلاف ہو۔

قانون 3: ایک روبوٹ ہمیشہ اپنی حفاظت کرے گا سوائے ان حالات کے جہاں یہ کرنا پہلے یا دوسرے اصول کے خلاف ہو۔

اسیموو کے مطابق ان اصولوں پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہی انسانیت ترقی کی راہوں کا سفر جاری رکھ سکے گی۔ ورنہ انسان کا بنایا ہوا روبوٹ ہی انسانیت کے خاتمے کی وجہ بن سکتا ہے۔ یہ مستقبل کے اس زمانے کی بات ہے جب روبوٹس اپنی جسمانی قوتوں میں انسان پر برتری کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلوں میں بھی مکمل طور پر با اختیار اور خود مختار ہو جائیں گے۔ ایسے حالات میں اگر کسی روبوٹ کے سامنے دو متضاد راستوں میں سے ایک کا انتخاب ضروری ہو جائے تو اسے اس راستے کو منتخب کرنا چاہیے جو ان تین قوانین سے میل کھاتا ہو۔ اسی میں انسانیت اور خود روبوٹس کی بھی بھلائی ہے (ایک انسانی دعوہ!)

اسیموو اپنی بعد کی تحاریر میں ایک صفر قانون یا چوتھے قانون کا بھی ذکر کرتا ہے:

ایک روبوٹ کبھی "انسانیت" کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور نہ ہے اپنی بے عملی سے "انسانیت" کو نقصان پہنچنے دے گا۔

یہ قوانین کس حد تک درست ہیں اور روبوٹ کس حد تک انہیں قابلِ عمل سمجھتے ہیں، اس کا فیصلہ تو مستقبل کے روبوٹ ہی کریں گے۔ ہم کیا کہہ سکتے ہیں! :-)

بدھ، 31 جنوری، 2018

روبوٹ کیا ہے؟ ایک آسان اور غیر رسمی تعارف

تحریر: فہد بن خالد
عام طور پر ہم لفظ 'روبوٹ' سنتے یا پڑھتے ہیں تو فوراً ذہن میں ایک مشینی انسان کا سا خاکہ آ موجود ہوتا ہے۔ یہ خاکہ کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن روبوٹ کی تعریف اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ہمیں خود کو سمجھنا ہوگا (یہ بات اتنی 'گہری' نہیں جتنی ابھی محسوس ہو رہی ہے۔)



انسان ایک 'سازندہ'(agent) ہے۔ یہ اپنے حواسِ خمسہ کے ذریعے گرد و پیش سے کچھ مواد اکٹھا کرتا ہے۔ اس مواد کو قابلِ استعمال معلومات میں ڈھالتا ہے۔ ان معلومات کی بنیاد پر کوئی کام کسی حد تک* اپنی مرضی سے سرانجام دیتا ہے۔ اسی طرح جانوروں، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی سازندوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ سب جاندار اپنے ماحول سے، مخصوص حواس کو استعمال میں لاتے ہوئے، معلومات حاصل کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سب قدرتی سازندے ہیں۔

اگر ہم مصنوعی طور پر ایک سازندہ تخلیق کر لیں جو کہ صرف ایک آلہ یا مختلف آلات و پرزوں کا ایک مجموعہ ہو سکتا ہے، اور وہ بھی اسی طرح کچھ حواس کا مالک ہو، گرد و پیش کا 'جائزہ' لے کر اس کی بنیار پر کوئی 'کام' سر انجام دے سکتا ہو، روبوٹ کہلائے گا۔

اس سے پتا چلا کہ ایک روبوٹ کن خصوصیات کی بنا پر 'روبوٹ' کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ ایک یہ کہ وہ مصنوعی ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ مواد(data) اکٹھا/قبول کر سکے۔ تیسرے یہ کہ وہ مواد کو قابلِ استعمال معلومات میں ڈھال کر فیصلہ کرے اور کوئی کام سر انجام دے سکے۔ اس تعریف کے مطابق مشینی انسان بھی روبوٹ ہے، خودکار طریقے سے چلنے والی گاڑیاں اور ڈرون تیارے بھی؛ یہاں تک کوئی چھوٹے سے چھوٹا آلہ جو درجِ بالا تعریف پر پورا اترے روبوٹ کہلایا سکتا ہے۔

*میں فری وِل(free will) کے فلسفیانہ مباحث میں فی الحال کودنا مناسب نہیں سمجھتا۔

پیر، 18 دسمبر، 2017

قطعہ

فرق


نہ آہ و زاری بوقتِ رنج و الم کریں گے

جو کام کوئی نہ کر سکے گا وہ ہم کریں گے

تمھارا لیڈر بھی ہو تو اندھوں میں کانا راجا

ہمارے بچے مثالِ جرأت رقم کریں گے

(فہد بن خالد)

منگل، 24 نومبر، 2015

غزل - انوکھا غم جو تڑپانے لگا ہے

غزل

انوکھا غم جو تڑپانے لگا ہے
مزا جینے کا اب آنے لگا ہے

خرد کے پیچ سلجهانے جو نکلا
دلوں کے تار الجھانے لگا ہے

جہاں تاریکیوں میں "جل" رہا ہے
یہ "ٹھنڈی آگ" بهڑکانے لگا ہے

کٹھن ہے راہ، پر تم کیسے سمجھو
یہ دیوانہ، کہاں جانے لگا ہے

تمنا ہے، لگن ہے، جستجو ہے
ارادہ، منزلیں پانے لگا ہے

کوئی آواز دل سے آ رہی ہے
"فہدؔ یکسر بدل جانے لگا ہے"

(فہدؔ بن خالد)

نوٹ: تیسرے شعر میں موجود "ٹھنڈی آگ" کی اصطلاح نعیم صدیقی صاحب کے افسانہ بعنوان "ٹھنڈی آگ" سے لی گئی ہے۔ مختصراً اس سے مراد وہ جذبہ ہے جو انسان کو مسلسل اپنے مقصد کے حصول کے لیے کچھ کرتے رہنے پر اکسائے اور اس کی رگوں میں خون بن کر دوڑے نہ کہ وہ آگ جو کچھ دیر جلے اور پھر بجھ جائے۔